خالی خزانہ

ظفراقبال

نوازشریف نے یوم تکبیر کے موقع پر بجلی بحران کے حل کے متعلق جو موقف اختیارکیا اس سے قوم کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے۔اس خطاب کا لب لباب یہ تھا کہ قوم اس خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی اندھیروں کو روشنیوں میں بدل دیں گے۔قوم بے صبری نہ کرے، دعا کرے۔ توانائی کے نئے منصوبوں میں وقت لگے گا اوربجلی کے موجودہ انفراسڑکچر کو رواں رکھنے کے لیے مطلوبہ سرما یہ موجود نہیں۔ دوسرے لفظوں میں ملکی خزانہ خالی ہے۔ میرے نزدیک میا ں صاحب کے واشگاف سچ کوئی انوکھی بات نہیں، یہ ہمارے ملک کا سیاسی فیشن ہے۔کہ ہر نیا آنے والا پچھلوں کو کوستا ہے۔مالی اسباب کی تنگی کے اسباب گنواتاہے۔

نئی حکومت کودرپیش معاشی چیلنجز میں کچھ ناگزیر معاشی مسائل بھی ہیں مگر۵۸ فی صد ان پڑھوں کی آبادی کے حامل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ سرکلر ڈیٹ ( circular debt) کیا بھلا ہے؟ آئی پی پیز ( IPPs) کس چڑیا کا نام ہے؟ عوام کو اپنی کٹیاؤ ں کو روشن رکھنے اور محنت کشوں کوروزی روٹی کے لیے بجلی چاہیے۔ان کے پاس فیکٹریاں اور محلات نہیں بلکہ اکثریت کی کل کائنات چند کمروں پرمشتمل گھر ، جن میں مٹی کا دیا بھی نہیں ہے میسر ۔

یہی غریب عوام اس امید پر سیاستدانوں کو ووٹ دے کر اس لیے حکومت تک پہنچاتے ہیں کہ وہ انھیں روزگار، تحفظ ،علاج ،پانی ،بجلی اور زندگی کی دوسری بنیادی سہولیات فراہم کریں۔ صبر کی لوریا ں سنانا بہت آسان مگر سننا اور عمل بہت کٹھن ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ حکمران عوام کو یہ درس نہ دیں کہ قوم حالات کی بہتری کے لیے دعائیں کرے۔ دعاؤں سے ملک نہیں چلتے اور نہ خواہشوں سے خوشحالی آتی ہے۔معمالات انفرادی ہوں یااجتماعی عمل ہی سب سے بڑی کسوٹی ہے۔نئے نویلے حکمران عزم، منصوبہ بندی اور نیک نیتی سے ہی ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

محترم نواز شریف نے اپنے حالیہ خطاب میں یہ اظہار بھی فرمایا کہ قو م کے اندھیروں کے کرب کی وجہ سے راتوں کونیند نہیں آتی ۔ وہ ایک انقلابی فیصلے سے اپنی نیند واپس لوٹاسکتے ہیں۔ ان کے خاندانی کاروباری اثاثے دنیا بھر میں پھیلے ہیں۔ایک موقر انگریزی روزنامے کے مطابق صرف برطانیہ میں شریف خاندان کے 20 ملین پاؤنڈ مالیت کے لگ بھگ کے اثاثے ہیں ۔ نوازشریف جی کڑا کرکے یہ دولت واپس ملک میں لا ئیں۔ توانائی منصوبوں کی مالی مجبوریوں کو دور کرنے میں زبانی نہیں عملی قربانی دے قو م کے دکھوں پر مرہم رکھیں۔ رعایا کو آسائش دینے کی یہ ایک روشن مثال ہوگی۔ قوم مشکورہوگی اور خراج بھی دے گی بلکہ کچھ بعید نہیں کہ دل سے فیصلے کرنے کی شوقین قوم وزارت اعظمی کا منصب شریف خاندان کوتا حیات سونپ دینے کا فیصلہ بھی کر گزرے اور یوں جمہوری قبا پہنا کر بھائیوں، بھتیجوںِ ، سمدہیوں، دامادوں اور قریبی رشتہ داروں پر مشتمل خاندان غلامان کو اقتدار کے منصب تک پہنچانے کے اس انتخابی ڈھکوسلے سے بھی انھیں ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے۔

یہ بات تو بلاشک وشبہ سے بالا تر ہے کہ آج پاکستان ایدھن کمی کے جس خوف ناک بحران سے دوچار ہے اس کی ذمہ دار پاکستانی اشرافیہ کی شرم ناک لوٹ کھسوٹ ہے جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر پہنچا دیا ہے۔ اس کرپٹ ٹولے نے غیرقانونی طریقے سے لوٹ کر دو سو بلین ڈالر سے اوپر سرمایہ صرف سووئزر لینڈکے بنکوں میں جمع کررکھا ہے؛دیگرملکوں میں جائدادیں اس کے علاوہ ہیں۔ایک عالمی شہرت یافتہ مغربی مصنف ریمنڈ بیکر ( Raymond Baker )نے اپنی کتاب Capitalism’s Achilles Heel: Dirty Money and How to Renew the Free-Market Systemـ میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان میں بھی قومی خزانے کی لوٹ مار کا پوسٹ مارٹم مستندحوالوں سے کیا ہے۔ ریمنڈ بیکرکے مطابق پاکستان کے برسر اقتدار سیاست دانوں، سنئیر بیورکریٹس اور فوج کے جرنیلوں نے غیر قانونی ذرائع سے ساٹھ سے ایک سو ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم باہر منتقل کی ہے۔جبکہ بھٹو (زرداری) خاندان کے برطانیہ،سوئیزرلینڈ، فرانس اور امریکہ میں پاکستان سے لوٹ کر لیے گئے سرمایے کی مالیت بھی اربوں میں ہے۔پاکستان میں کرپشن کے چونکا دینے والے انکشافات کرنے والی یہ دستاویز نوازشریف پر موٹر وے منصوبے میں ۱۶۰ ملین ڈالر اپنی جیب میں ڈالنے ، ٹریکٹروں، پیلی ٹیکسی سکیموں اور کئی متنازعہ منصوبوں سے بھی دو سو ستر کروڑ کے کیمشن لینے جیسے الزام بھی عائد کرتی ہے۔قوم یہ بھی سنتی ہے کہ یہ وہی نواز شریف ہیں جو وزیر اعظم کو طور پر اپنا پروٹوکول قافلہ روک کر اپنی جبین نیاز کو رب کے حضور جھکا دیتے ہیں کہ اقتدار کا وقتی جلال ان کے سر میں کہیں غرور نہ بھر دے۔
ہیں کواکب کچھ،نظرآتے ہیں کچھ

اب کی بار وزیراعظم بن کر نواز شریف صرف ایک کام کرلیں : بیرون ملک جمع کی گئی اپنی اور دوسروں کی دولت وطن میں لے آئیں ِ،ملک کا خالی خزانہ دوبارہ بھر جائے گا۔قوم کے چہرے پر مسرت اور شہروں میں روشنی لوٹ آئے گی۔

( ظفراقبال برطانیہ میں مقیم ایک فری لانس صحا فی اور بلاگر ہیں۔ http://www.zafaronline.net/ )

Be Sociable, Share!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *