اپنوں کا اعتراف

ظفراقبال

دو دہا ئیوں سے زائد عرصے پر محیط کشمیر ی مزاحمت میں یہ نو عیت کا منفرد واقعہ اور انوکھا انکشاف ہے کہ لشکر طیبہ کے بند وق برداروں نے مذہبی رہنما شوکت شاہ کے قتل کا ذمہ دار اپنے ہی لو گوں کو قراد دیا ہے ورنہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ مولا نا فا روق ، قاضی نثار ، غنی لو ن، ڈاکٹر عبدالاحد، مولو ی مشتاق ، پر وفیسر رمضان جیسے بڑے بڑے نام تاریک راہوں میں ما رے گئے لیکن کشمیری سماج اور سیاست کے ان اہم نا موں کو ابدی نیند سلا نے والے بزدل ہا تھوں اور چہروں کا سرا غ نہ مل سکا اور ان کے قاتل سری نگر اور دوسرے شہروں کی گلیوں اور با زاروں میں ” آزادی کے رکھو الے“ بن کر دندنا تے پھرتے رہے ۔ کبھی کبھا ر کشمیر ی معاشرے کی دبی دبی آوازیں اور کپکپاتی انگلیاں اپنوں کی جانب اٹھیں لیکن عسکریت پسندوں کی بندوقوں اور ہندوستانی سیکورٹی دستوں کی سنگینوں تلے پروان چڑھنے والے وحشت اور مصلحت کے ماحول میں تان بالآخر اسی بات پر آکر ٹوٹتی رہی کہ سر ی نگر میں گرنے والی ہر سویلین نعش اور ہر مسجد ، مندر اور گرد وارے میں ہونے والے بم دھاکے کے پیچھے نئی دہلی سرکار کا ہا تھ ہے ۔ہر کشمیر ی رہنما کے قتل کے بعد یہی ڈھونڈورا پیٹا جا تا رہا کہ دشمن تحریک آزادی کو بدنا م کر نے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے کو ئی مسلمان کسی مسلمان کو قتل کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتا۔

ایسی ہی ایک کہانی اس سال اپر یل میں کشمیر ی رہنما مولا نا شوکت کی نامعلوم افراد کے ہا تھوں شہا دت پر گھڑی گئی اور تمام آزادی پسند حلقوں نے ان کے قتل کا الزام بھا رتی انتظامیہ اور حکومت کے سر تھوپ دیا تھا ۔ لشکر طیبہ کے روحانی قائد پر وفیسر حافظ سعید نے مولا نا شوکت کی غائیا بہ نما ز جنا زہ بھی ادا کردی تھی جن کے کا رکنوں کو ایک بے گناہ کشمیری کے قاتلوں کی صف میں شامل کیے جا نے کا برملا اعتراف حریت کا نفرنس کو پیش کر دہ لشکر طیبہ کی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

کشمیری عسکریت پسندوں کی طرف سے ایک کشمیری شہری کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف ایک بڑا اخلاقی قدم ہے تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں اس نو عیت کے واقعات کا سدبا ب ممکن ہے؟ جبکہ دیگر سیاسی شخصیات کو نشانہ بنائے جا نے کی مضوبہ بندی کئے جانے کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔

جموں وکشمیر میں1989ءمیں شروع ہونے والی عسکریت عالمی اور علا قائی حالات بالخصوص پاکستا ن کی طرف سے ہا تھ کھینچ لیے جا نے اور غیر معمولی طوالت کی وجہ سے اس کے پالیسی سازوں کے لئے بڑاچیلنج بن چکی ہے۔ ہندوستان کے خلا ف عام کشمیر ی کی نفرت اپنی جگہ تاہم آئے روز کی ہڑتالوں اور مظاہروں سے ہو نے والے اقصادی نقصانات، انسانی جا نوں کے ضیا ع سے جنم لینے والے نفسیا تی ، سماجی اور جذبا تی المیوں کی وجہ سے عوام النا س میں عسکریت سے بے زاری کی با زگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے کشمیری نو جو انوں کی طرف سے اٹھنے والی سنگ با ری تحریک کے دوران اس کے نتائج اور ثمرات کے حوالے سے بعض دانشور حلقوں میںسوال اٹھتے رہے۔ اسی تنا ظر میں مولانا شوکت شاہ نے نو جو انوں کی طرف سے املا ک اور گاڑیو ں پر سنگ با ری کو غیر اسلا می قرار دے دیا تاہم ان سے اختلاف کرنے والوں میں سے بعض نے بولی کے بجائے گولی کا راستی انتخاب کیا اور ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا ، شومئی قسمت کہ اس سے قبل انہی کی جما عت کے ایک اور سربراہ اور اہم رہنما کو اسی انداز میں ہمیشہ کی نیند سلا یا جا چکا ہے ۔

اس وقت مزاحمت اور شہری حقوق اور آزادیوں کا عالمی منظر نامہ گہری تبدیلیوں کی زد میں ہے، دنیا میں سماجی انصاف او ر شہری آزادیوں کے حق میں انصاف پسند اقوام اور ملکوں کی آوازیں پو ری قوت کے ساتھ ابھر رہی ہیں انٹرنیٹ اور آزادی اظہار کے وار کلا شنکو ف کی گولی سے بھی زیادہ گہرے ہو گئے ہیں، جہنوں نے کئی معاشروں میں دور رس اور ہمہ گیر تبدیلیوں لا ئی ہیں، بالحضوص مشرق وسطیٰ سے اٹھنے والی عوامی مزاحمت کے سامنے بڑے بڑے آمر اور طاقتور حکومتیں ڈھیر ہو گئیں ہیں ۔خود ہندوستان کے اندر سول سو سائٹی میں کئی ادارے اور آواز یں انصاف کی حکمرانی کیلئے بر سر پیکا ر ہیں۔ کرپشن کے خلا ف اٹھنے والی انا ہزارے کی حالیہ تحریک نے مصلحت سے بالا تر ہو کر سچائی کے اظہار اور اپنے مو قف کو عدم تشدد اور ڈائیلا گ کے ذریعے فیصلہ سازی کے مراکز تک آواز پہنچانے والوں کو دنیا بھر میں غیر معمولی اخلا قی تائید اور قوت فراہم کی ہے۔ ان حالات میں کشمیر کی تحریک مزاحمت کے پالیسی سازوں کیلئے بڑا امتحان ہے کہ اپنی حکمت عملی کو زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں اور اعلیٰ قومی مقاصد کو ذاتی اغراض کی بھینٹ چڑھانے والے بہر وپیوں سے کنارہ کشی اختیا ر کی جا ئے ورنہ ان گنت انسان لا حاصل عسکریت اور مذہبی جنو نیوں کے ایڈ وینچرازم کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔

Be Sociable, Share!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *