نائن الیون نے کیا دیا ؟

ظفراقبال

گیارہ ستمبر 2001ء کونیویار ک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی فلک بوس عمارت گرتے ہی دنیا یکسر بدل گئی تھی ، ٹنوں وزن پر مبنی سٹیل او ر کنکریٹ سے بنے دونوں ٹاو ر جب لاکھوں امریکیوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے دھڑام سے گر پڑئے تو ان کے دل بری طرح زخمی تھے ، سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سپر پاور ور ناقابل تسخیر ہونے کے زعم میں مبتلا امریکیوں کو پہلی بار احساس ہو ا کہ مادی طاقت و ٹیکنالوجی کے شہسوار ہونے کے باوجود دہشت گردی کے آگے وہ کتنے غیر محفوظ اور بے بس ہیں ۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر امریکہ کی اقتصادی طاقت کا مظہر ہی نہیں ، انجینئر نگ اور فن تعمیر کا ایک نادر شاہکار تھا جسے سعودی عرب کے بڑے بڑے تعمیراتی منصوبوں میں ماڈرن ازم اور اسلامی آرٹ کا رنگ بھرنے والے ایک امریکی انجینئر منیوریمزل کے تخلیقی ذہن نے وجود بخشا تھا اس لئے گماں کیا جاتا ہے کہ اس عمارت کے انتخاب میں اسامہ بن لادن کی ذاتی نفرت بھی کار فرما تھی۔ وہی اسامہ جس نے ایک طویل عرصے تک واشنگٹن سے ڈالروں او ر اسٹنگر میزائلوں سے بھرے جہازوں کو کابل پہنچانے او ر افغانیوں کو ہتھیاروں اور تربیت کیلئے تین سو ملین ڈالر سالانہ کی رقم فراہم کی تھی لیکن امریکیوں کیلئے ’’مجاہد‘‘اسامہ اس وقت ’’ دہشت گر د‘‘ بن گیا جب اس نے کویت پر عراقی حملے کے بعد 54ہزار امریکی افواج کی سعودی عرب میں موجودگی کو غیر اسلامی قرار دیا اور انکی واپسی کا مطالبہ کیا۔ نائن الیون نے اسامہ اور اس کے ساتھیوں کی آگ کو ضرور ٹھنڈا کیا لیکن امریکی زخمی شیر کی طرح عراق ا ور افغانستان پر چڑھ دوڑے جہاں لاکھوں انسانوں کا خون بہا، امریکہ کی پاک و افغان پالیسی کا رخ مکمل تبدیل ہو گیا جس کے نتیجے میں سنٹرل ایشاء کے تیل کے خزانوں تک رسائی کیلئے ہونے والے امریکہ طالبان مذاکرات ملا عمر کی حکومت سمیت دفن ہو گئے ۔

پاکستان کو پتھر کے دور تک پہنچانے کی رچرڈ آرمٹیچ کے دھمکی نے پاکستان کو عالمی جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا دیا ، ساتھ ہی امریکی چھتری کے سائے تلے پاکستان میں مشرف آمریت کی سیاہ رات تقریبا ً10سال تک چھائی رہی ۔ یورپ کے کئی جمہوری ملکوں سمیت دنیا بھر میں سیکورٹی کے نام پر شہری آزادیوں کا گلہ گھونٹا گیا اور عالم اسلام میں مغرب کے خلاف نفر ت اور مغرب میں اسلام او رمسلمانوں کے بارے میں شکوک وشبہات کی فصل برگ و بار لائی تو مذہب کے نام پر سیاسی کاروبار کرنے والوں نے نئے منظر کو وقت کی ’’ صلیبی جنگ‘‘ سے تعبیر کیا، تاہم عراق پر امریکی جارحیت کے وقت دنیا بھر کے تمام انصاف پسند انسان ہر قسم کی سرحدوں سے ماورا ہو کر جنگ کے خلاف یک آواز تھے ، عیسائیوں کے مقدس شہر روم میں 2003میں تئیس لاکھ لوگوں کی ’’ اینٹی وار ریلی ‘‘ ہوئی جو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا گیا۔گیارہ ستمبر کے پس منظر میں اسلام اور مغرب کے مابین تصادم کی خلیج اور گہری ہو گئی ،پورپی ملکوں میں دائیں بازو کی نسل پرست پارٹیوں کا اقتدار برطانیہ جیسے کثیر الثقافتی معاشرے میں نسل پرستوں کا احیاء اور سری لنکا ، افریقہ اور دیگر تنازعات میں ثالثی کاکردار ادار کرنے والے ملک ناروے میں پندرہ سو صفحات پر مشتمل بنیاد پرست منشور کے اجراء جیسے واقعات مغرب میں اسلام اور تارکین وطن کے خلاف اُٹھنے والے منفی رجحانات کی بھرپور عکاسی ہیں۔

اسوقت عالمی سیاست کے کھلاڑیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ منصفانہ پالیسیوں کے ذریعے مشرق ومغرب میں متعصبانہ اور انسانیت کو تباہی کی طرف لے جانے والے ان رجحانات کے آگے بند باندھیں اور مغربی حکومتوں کی پالیسیوں کے بڑے نقاد جارج گلیواے کے مخلصانہ تجزئیے پر غور کریں جن کا کہنا ہے کہ فلسطین سے مغرب کی لا تعلقی اور مسلم دنیا میں آمرانہ حکومتوں کی سرپرستی کرنے جیسے دوہرے معیارات کی وجہ سے مغرب سے ناراض مسلم نوجوان اسامہ بن لادن کی آغوش میں چلے گئے ، جنہوں نے گیارہ ستمبر کے المناک المیے کو جنم دیا جس سے نمٹنے میں اگر کوتاہی کی گئی تو ایک ہزار نئے اسامہ پیدا ہوں گے کیونکہ مسلم دنیا میں میں خراب طرز حکمرانی ، موروثی سیاست اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے نالاں نوجوان امریکہ اور پورپ میں نہ سہی اپنے اپنے خطوں اور ملکوں میں اس سانحے کی تاریخ پھر دہرا سکتے ہیں ۔

( ظفراقبال برطانیہ میں مقیم ایک فری لانس صحافی اور بلاگر ہیں ۔ http://www.zafaronline.net/ )

Be Sociable, Share!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *