کپتان کا نیا امتحان

کپتان کا نیا امتحان
ظفراقبال
ماضی قریب کی تانگہ پارٹی تحریک انصاف آجُ پاکستان کے سیاسی افق پر ایک بھرپور سیاسی قوت کے طور پر طلوع ہو چکی ہے۔اس تاریخی پیش قدمی کے ساتھ ہی عمران خان کے لیے نئے چیلنجز کا سلسلہ شروع ہو چکا۔سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ تبدیلی ایکسپریس میں سوار سیاسی مسافروں کے من میں مچلتی اقتدار کی خواہشوں کے آگے نظریے اوراصولوں کا بندکیسے باندھتاہے۔شاہ محمودقریشی اینڈ کمپنی جیسی اقتداری مچھلیوں کے لیے اقتدار کے بغیر سیاست کرنا انتہائی دشوار ہو گا۔ نواز شریف نے آنے والے معاشی،دفاعی اور جیوسٹریٹجک کے تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کومل کر شراکتی حکومت میں شمولیت کے لیے دانہ ڈال دیاہے۔سیاسی مسافر یقیناًکپتان کو نون لیگ کے ساتھ مل کر مرکز میں حکومت بنانے کے لیے ضرور قائل کریں گے۔ شاہ محمودقریشی مخلوط حکومت کے ساتھ ملنے کا اشارہ پہلے ہی دے چکے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو یہ فرسودہ روایتی سیاست کے باغی لاکھوں پاکستانیوں اور نیے پاکستان کا خواب دیکھنے والے جنونیوں کے ارمانوں کا خون تو ہو گا ساتھ ہی یہ پی ٹی آئی کے سنہرے سیاسی مستقبل کے لیے ایک خودکش حملہ ہوگا۔
کپتان کے لیے صائب راستہ یہی ہے کہ وہ مرکز میں ایک جاندار اپوزیشن کا کردار ادا کرے اور جس طرح مرغی اپنے نومولود چوزوں کو پروں کے نیچے رکھ کر شکاری جانورں سے بچا کر رکھتی ہے اس طرح اپنے ممبران اسمبلی کو اس زخمی شیر سے بچا کر رکھے وہ جو پی ٹی آ ئی کی غیرمتوقع سیاسی رکاوٹ سے غیر معمولی مینڈیٹ نہ ملنے کے باعث زخم زخم ہے۔ ملکی قوانین نے اگرچہ ہارس ٹریڈنگ کا راستہ بظاہر روک رکھا ہے لیکن نواز شریف اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے قانونی موشگافیوں میں بھی نئی راہیں جاننے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے جب اصولی سیاست کے علمبردار برادران نے ق لیگ کے بطن سے یونی فیکشن بلاک نکالا،سیاسی لوٹوں کے سہارے پانچ سال پورے کیے اور الیکشن سے قبل استعمال کرکے انھیں ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔کپتان کو اس حوالے سے بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آ ئی ملک کی ایک اہم پارٹی کے طور پر ابھارنے میں روایتی سیاسی جماعتوں کی ناکامی کا سب سے اہم کردار ہے۔دو جماعتی نظام جمہوری نظام کا جزو لاینفک ہونے کے ساتھ ساتھ کئی خرابیوں کاباعث بھی ہے ۔حتی کہ مستحکم جمہوریتوں میں بھی روایتی سیاسی جماعتوں کے خلاف تبدیلی کی خواہش نئی پارٹیوں کے سانچوں میں ڈھلتی رہتی ہے اس کی حالیہ مثال برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹ ہے جو روایتی پارٹیوں کے مقابلے میں اپنے مسحور کن اصلاحات کے ایجنڈے کی بدولت ۲۰۰۸ء کے الیکشن میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر ایوان زریں میں پہنچی ،لیبرپارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کو اکثریت نہ ملنے سے لبرل ڈیموکریٹ کنگ میکر بن گئی اور موخرالذکر کے ساتھ مل کر حکومت بنا لی جس میں اس کے سربراہ نک کلگ کو بطور ڈپٹی وزیر اعظم چنا گیا۔ ۱۹۸۸ء میں ایک جدت پسند جماعت کے طور پر اپنے قیام کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب لبرل ڈیموکریٹس اپنے اصلاحات کے ایجنڈے کی وجہ سے عوام کے دل جیتنے میں خواطر خواہ کامیاب ہوئے لیکن کنزرویٹو پارٹی کی اتحادی حکومت میں آنے کے بعد اپنے حلیف کہ من مانیوں کی وجہ سے اپنے عوام دوست انقلابی پروگرام پر عمل درآمد تو درکنار اپنے منشور کے برعکس اقدامات کا ساتھ دینے پر مجبور ہونا پڑا مثلا یہ جماعت نوجوانوں کے لیے فیسوں میں رعایت کی دعوے دار تھی لیکن اپنے حکومتی حلیف کے ساتھ مل کر طالب علمو ں کی فیسو ں میں غیرمعمولی اضافی کربیٹھی،سماجی بہبود کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی جس کی زد میں کم آمدنی والے طبقات آئے۔ اتحادی حکومت کے یہ تمام اقدامات اصلاحات اور تبدیلی کا خواب دیکھنے والے ووٹروں کے ساتھ سنگین بے وفائی اور سیاسی عہد شکنی تھی ۔ آج لبرل ڈیموکریٹس کو اس کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑی ہے۔ عوام میں اس کے خلاف غم وغصہ دیدنی ہے۔یہ پارٹی آج مقبولیت کے انتہائی پست ترین درجے پر کھڑی ہے۔ضمنی الیکشن میں عبرت ناک شکست کے ساتھ ساتھ بلدیاتی الیکشن میں تمام بلدیاتی کونسلز جو اس کا گڑہ تھیں ، میں پارٹی کا صفایا ہو گیا اور ویلز اور سکاٹ لینڈ کی اسمبلیوں میں بھی بری طرح ہار گئی۔
سیاسی منشور بھلے کتنے ہی سہانے اور انقلابی کیوں نہ ہوں مخلوط حکومتوں کے ہاتھ سیاسی مصلحتوں سے بندھے ہوتے ہیں اور قیادت کتنی ہی انقلابی کیوں نہ ہو متحرک جمہوریت میں باشعور ووٹر جماعتوں کو عبرت کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔برطانیہ کے ساتھ اپنے رابطو ں کی بد ولت عمرا�آخان لبرل ڈیمو کریٹس کے انجام اور تازہ سیاسی حقائق سے ضرور آشنا ہوں گے۔اس لیے نون لیگ کی سیاسی شراکت داری میں جھنڈی کے شائقین کی مراد تو پوری ہو جائے گی لیکن کپتان کی ساکھ اور پی ٹی آئی کی جدت کا خواب چکنا چور ہو جائے گا۔
کپتان کی پارٹی کے لیے ایک اور مشکل مرحلہ یہ ہے کہ اسے ایک حقیقی ملک گیر جماعت میں ڈھالا جائے۔ سندھ اور بلوچستان میں پارٹی ابھی تک بہت کمزور ہے، پنجاب میں گراس روٹ پر پارٹی کو منظم کرنے کے ساتھ ان دونوں صوبوں میں پی ٹی آ ئی کا استحکام پاکستان کی سالمیت اور وحدت کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔پیپلزپارٹی نے چار دہائیووں تک پاکستان کے چاروں یونٹس کو وحدت میں پروئے رکھا، اب اس کا سورج ڈھل چکا۔ مسلم لیگ کے تما م برانڈزہمیشہ آمروں کی جیب میں پڑے رہے۔ نون لیگ مرکز اور پنجاب میں آگے رہنے کے باوجو ابھی تک جی ٹی روڈ لیگ ہی ہے۔ مہاجر سے متحدہ میں ڈھلنے والی ایم کیو ایم سے ایک قومی پارٹی کے کردار کا تقاضہ عبث ہے۔اے این پی طالبان کے ہاتھوں نہیں بلکہ اپنے اعمال کے ہاتھوں دفن ہو چکی، جماعت اسلامی ۷۳سالہ تحریکی اور سیاسی عمر کے باوجود قومی پارلیمان میں دس کا عندسہ پورا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ، دینی جماعتیں دینی کم اور مسلکی زیادہ ہیں ایسے میں ایک ملک گیرقومی جمہوری پارٹی کا قیام ازبس ضروری ہو جو جغرافیائی تقیسم کی راہوں پر گامزن پاکستان کے سیاسی اور جغرافیائی وجود کو سہارا دے سکے۔ایک ملک گیرسیاسی جماعت کے خلا کو پی ٹی آئی ہی پورا کرسکتی ہے۔پی ٹی آئی قیادت کو اس جانب دھیان دینا ہو گا۔
دھشت گردی اور طالبان کا بڑھتا ہوا کردار اک سلگتا ہوا سوال ہے پختون خواہ میں اگرپی ٹی آئی کی حکومت تشکیل پاتی ہے تو وہ اس عفریت سے آنکھیں نہیں چرا سکے گی۔اس حوالے سے کپتان کے موقف کے کئی ناقدین ہیں۔عمران خان کو طالبان خان کہنے والوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ طاقت کے ذریعے ریاست کے باغیوں اور عسکری مزاحمت کوکچلنے کی پالیسی عصرحاضر میں سری لنکا کے علاوہ کہیں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بم اڑانے اور بلفاسٹ میں ملکہ کا داخلہ بند رکھنے والے والے شمالی آئیر لینڈکے سخت گیر دہشت گرد مذاکرات کے ذریعے جمہوری نظام کا حصہ بن کر آج نادرن آئیر لینڈ کی اسمبلیوں میں بٹھے ہیں۔ طالبان سے بھی سخت جان کرد وں نے ترکی میں گزشتہ ہفتے شاخ زیتون لہرا کر عسکریت کا راستہ ترک کر دیا، عنقریب وہ ملک کی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوں گے۔مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے یہ عصری کامیابیاں اس بات کا حوصلہ دیتی ہیں کہ طالبان اور بلوچ عسکریت پسندوں کو قومی دھارے میں لانے کا آپشن طویل اور مشکل ضرور لیکن ناممکن نہیں۔
۔ماضی میں ایم ایم اے اور اے این پی کی حکومتیں خیبر پختون خواہ میں کوئی خاطر خواہ مثبت تبدیلی نہیں لاسکی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ عمران خان کااصلاحات اور تبدیلی کا ایجنڈا صوبہ خیبر پختون خواہ میں عمل کی صورت سامنے آئے۔صوبوں کو بااختیار بنانے کے بعد صوبے مرکز سے فنڈز کی کمی کا رونا نہیں رہ سکتے۔ خیبر پختون خواہ کی نو منتخب حکومت بلدیات کے نظام کی ترقی ،ماحول دوست توانائی منصوبوں اور عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنا کر دوسروں کے لیے مثال بن سکتی ہے۔

( ظفراقبال پائیدار ترقی اور دیرپا امن کے لیے کام کرنے والے ادارے پریس فارپیس کے بانی اورقلمکار ہیں۔
رابطہ کے لیے http://www.pressforpeace.org.uk )

Be Sociable, Share!